الطاغوت

تفہیم القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت (256)

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت(1)      کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے)         سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

تشریح            (    1)

” طاغوت “ لغت کے اعتبار سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا، جو اپنی جائز حد سے تجاوز کر گیا ہو۔ قرآن کی اصطلاح میں طاغوت سے مراد وہ بندہ ہے، جو بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خود آقائی و خداوندی کا دم بھرے اور خدا کے بندوں سے اپنی بندگی کرائے۔ خدا کے مقابلے میں ایک بندے کی سرکشی کے تین مرتبے ہیں۔ پہلا مرتبہ یہ ہے کہ بندہ اصولاً اس کی فرماں برداری ہی کو حق مانے، مگر عملاً اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔ اس کا نام فسق ہے۔ دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ اس کی فرماں برداری سے اصولاً منحرف ہو کر یا تو خود مختار بن جائے یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے لگے۔ یہ کفر ہے۔ تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ وہ مالک سے باغی ہو کر اس کے ملک اور اس کی رعیت میں خود اپنا حکم چلانے لگے۔ اس آخری مرتبے پر جو بندہ پہنچ جائے، اسی کا نام طاغوت ہے اور کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کا مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ وہ اس طاغوت کا منکر نہ ہو۔

Continue reading “الطاغوت”

دانش مند قران پاک سے

تفہیم القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة – آیت نمبر 269

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ

يُؤتِى الحِكمَةَ مَن يَّشَآءُ‌‌ ۚ وَمَن يُّؤتَ الحِكمَةَ فَقَد اُوتِىَ خَيرًا كَثِيرًا‌ ؕ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الاَلبَابِ

ترجمہ: جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔309 اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں ،جو دانشمند ہیں

تفسیر:   سورة الْبَقَرَة  309

حکمت سے مراد صحیح بصیرت اور صحیح قوت فیصلہ ہے۔ یہاں اس ارشاد سے مقصود یہ بتانا ہے کہ جس شخص کے پاس حکمت کی دولت ہوگی، وہ ہرگز شیطان کی بتائی ہوئی راہ پر نہ چلے گا، بلکہ اس راہ کشادہ کو اختیار کرے گا جو اللہ نے دکھائی ہے۔ شیطان کے تنگ نظر مریدوں کی نگاہ میں یہ بڑی ہوشیاری اور عقل مندی ہے کہ آدمی اپنی دولت کو سنبھال سنبھال کر رکھے اور ہر وقت مزید کمائی کی فکر ہی میں لگا رہے۔ لیکن جن لوگوں نے اللہ سے بصیرت کا نور پایا ہے، ان کی نظر میں یہ عین بےوقوفی ہے۔ حکمت و دانائی ان کے نزدیک یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کمائے، اسے اپنی متوسط ضروریات پوری کرنے کے بعد دل کھول کر بھلائی کے کاموں میں خرچ کرے۔ پہلا شخص ممکن ہے کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں دوسرے کی بہ نسبت بہت زیادہ خوشحال ہو، لیکن انسان کے لیے یہ دنیا کی زندگی پوری زندگی نہیں، بلکہ اصل زندگی کا ایک نہایت چھوٹا سا جز ہے۔ اس چھوٹے سے جز کی خوش حالی کے لیے جو شخص بڑی اور بےپایاں زندگی کی بدحالی مول لیتا ہے، وہ حقیقت میں سخت بیوقوف ہے۔ عقل مند دراصل وہی ہے، جس نے اس مختصر زندگی کی مہلت سے فائدہ اٹھا کر تھوڑے سرمایے ہی سے اس ہمیشگی کی زندگی میں اپنی خوشحالی کا بندوبست کرلیا۔

Continue reading “دانش مند قران پاک سے”

قران کریم کی بڑی اہم بات

تفہیم القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر – آیت نمبر 32

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْمِ
ثُمَّ اَورَثنَا الكِتبَ الَّذِينَ اصطَفَينَا مِن عِبَادِنَاۚ فَمِنهُم ظَالِمٌ لِّنَفسِهٖ‌ۚ وَمِنهُم مُّقتَصِدٌ ‌ۚ وَمِنهُم سَابِقٌۢ بِالخَيرتِ بِاِذنِ اللّهِؕ ذلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبِيرُؕ

ترجمہپھر ہم نے اس کتاب کا وارث بنا دیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے (اِس وراثت کے لیے)اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔ 55 اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے، اور کوئی بیچ کی راس ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ 56

تفسیر:سورة فَاطِر  55

مراد ہیں مسلمان جو پوری نوع انسانی میں سے چھانٹ کر نکالے گئے ہیں تاکہ وہ کتاب اللہ کے وارث ہوں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اسے لے کر اٹھیں۔ اگرچہ کتاب پیش تو کی گئی ہے سارے انسانوں کے سامنے۔ مگر جنہوں نے آگے پڑھ کر اسے قبول کرلیا وہی اس شرف کے لیے منتخب کرلیے گئے کہ قرآن جیسی کتاب عظیم کے وارث اور محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے رسول عظیم کی تعلیم و ہدایت کے امین بنیں۔

 سورة فَاطِر  56

یعنی یہ مسلمان سب کے سب ایک ہی طرح کے نہیں ہیں، بلکہ یہ تین طبقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں 

1) ۔ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سچے دل سے اللہ کی کتاب اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایمانداری کے ساتھ اللہ کا رسول تو مانتے ہیں، مگر عملاً کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کا حق ادا نہیں کرتے۔ مومن ہیں مگر گناہ گار ہیں۔ مجرم ہیں مگر باغی نہیں ہیں۔ ضعیف الایمان ہیں مگر منافق اور دل و دماغ سے کافر نہیں ہیں۔ اسی لیے ان کو ظالمٌ لنفسہ ہونے کے باوجود وارثین کتاب میں داخل اور خدا کے چنے ہوئے بندوں میں شامل کیا گیا ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ باغیوں اور منافقوں اور قلب و ذہن کے کافروں پر ان اوصاف کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔ تینوں درجات میں سے اس درجہ کے اہل ایمان کا ذکر سب سے پہلے اس لیے کیا گیا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے امت میں کثرت انہی کی ہے۔

Continue reading “قران کریم کی بڑی اہم بات”

امت محمد کی امامت

الحمدللہ رب العالمین
امت محمدﷺ کی امامت اور کعبہ کی مرکزیت کا اعلان کرنے کے بعد ہی اللہ تعالی نے سورہ البقرہ کے انیسویں رکوع سے آخر سورہ تک یعنی آیت نمبر 153 تا 286 جملہ 134 آیات جملہ 22 رکوع تک مسلسل اس امت کو وہ ہدایات دی ہیں جن پر اسےعمل پیرا ہونا چاہئیے
(بحوالہ بقرہ کا حاشہ 123 کا حصہ 9 )